ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 1984 سکھ فسادات: سپریم کورٹ نے 34 لوگوں کو دی ضمانت، ہائی کورٹ نے ٹھہرایا تھا مجرم

1984 سکھ فسادات: سپریم کورٹ نے 34 لوگوں کو دی ضمانت، ہائی کورٹ نے ٹھہرایا تھا مجرم

Tue, 23 Jul 2019 22:59:29    S.O. News Service

نئی دہلی، 23 جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے 1984 سکھ فسادات کیس کے 34 قصورواروں کو ضمانت دے دی ہے۔ان قصورواروں نے دہلی ہائی کورٹ سے ملی پانچ سال کی سزا کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔1984 سکھ فسادات کیس میں دہلی ہائی کورٹ نے ان تمام کو فسادات، گھر جلانے، کرفیو کی خلاف ورزی کا مجرم قرار دیا تھا۔سپریم کورٹ نے منگل کو سکھ مخالف فسادات میں مجرم ٹھہرائے گئے 34 افراد کو ضمانت دے دی۔ترلوک پور علاقے میں 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے دوران فسادات اور آتش زنی کے لئے دہلی ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ نے 34 لوگوں کو مجرم سمجھا تھا اور پانچ سال کی سزا سنائی تھی،اگرچہ کسی پر قتل کا الزام نہیں ہے۔سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے عدالت میں کہا کہ سکھ مخالف فسادات کے معاملے میں سات افراد کی سزا کو منسوخ کرنے کے عدالت عظمی کے فیصلے پر حکومت کی درخواست عدالت میں زیر التوا ہے، تو ان 34 قصورواروں کو ضمانت دینا مناسب نہیں ہوگا۔اس سے پہلے 5 جولائی کو عدالت عظمی نے براہ راست ثبوتوں کی عدم موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے سات افراد کو بری کر دیا تھا۔دہلی پولیس نے ان لوگوں کے بری کئے جانے پر جائزہ درخواست دائر کی تھی۔


Share: